Imran Khan’s Second Open Letter to COAS: A Plea for Justice or a Political Gambit?
Allegations of Political Targeting
Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) founder Imran Khan has written a second open letter to Chief of Army Staff (COAS) General Asim Munir, alleging that the country’s largest political party is being targeted. He expresses concern over election rigging, judicial control, and suppression of free speech through the PECA law, which he warns may jeopardize Pakistan’s GSP+ status.
Criticism of Government Policies
Khan criticizes the government’s “might is right” approach, blaming it for economic turmoil. He details his harsh prison conditions, including solitary confinement and restricted communication with family and party members. He also claims that PTI leaders and workers face unjust legal delays.
Calls for Judicial Reforms
His first letter called for judicial commissions and policy reconsiderations, but the establishment remains firm on its stance. Government officials dismiss his letters as attempts to create divisions, urging him to pursue politics within parliament.
The Future of Pakistan’s Democracy
As political tensions rise, the response to Khan’s plea could shape Pakistan’s democratic future.
اردو میں پڑھیں
عمران خان کا آرمی چیف کو دوسرا کھلا خط: انصاف کی اپیل یا سیاسی چال؟
سیاسی انتقامی کارروائی کے الزامات
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) جنرل عاصم منیر کو دوسرا کھلا خط لکھا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے انتخابات میں دھاندلی، عدالتی کنٹرول اور اظہارِ رائے کی آزادی کو دبانے کے لیے پی ای سی اے قانون کے نفاذ پر تشویش کا اظہار کیا، جو ان کے مطابق پاکستان کے جی ایس پی+ اسٹیٹس کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
حکومتی پالیسیوں پر تنقید
عمران خان نے حکومت کی "طاقت ہی حق ہے" پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے اپنی سخت قید کی تفصیلات بتائیں، جن میں تنہائی، اہل خانہ اور پارٹی ارکان سے محدود رابطہ شامل ہے۔ مزید برآں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی رہنما اور کارکن غیر منصفانہ قانونی تاخیر کا سامنا کر رہے ہیں۔
عدالتی اصلاحات کا مطالبہ
ان کے پہلے خط میں عدالتی کمیشنز کے قیام اور پالیسیوں پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن اسٹیبلشمنٹ اپنے مؤقف پر قائم رہی۔ حکومتی عہدیداروں نے ان کے خطوط کو تقسیم پیدا کرنے کی کوشش قرار دے کر مسترد کر دیا اور انہیں پارلیمنٹ کے اندر سیاست کرنے کا مشورہ دیا۔
پاکستان کے جمہوری مستقبل کا سوال
ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے پیش نظر، عمران خان کی اس اپیل کا ردعمل پاکستان کے جمہوری مستقبل کو تشکیل دے سکتا ہے۔
0 Comments