Bushra Bibi Takes Charge in PTI: Legal Team and Fee Audits
Bushra Bibi, Imran Khan's wife, is playing a bigger role in PTI's legal matters. Here's a quick rundown:
Legal Team Overhaul
Bushra Bibi wants a list of all PTI lawyers.
Advocate Qazi Anwar and Mashal Yousafzai will report to her.
Anwar must consult her on all PTI-related cases.
Communication Changes
PTI lawyers can no longer send messages to Imran Khan directly.
This move is to centralize and streamline their legal strategy.
Solving Internal Issues
Bushra Bibi resolved disputes among PTI's lawyers.
She finalized changes in the Insaf Lawyers Forum KP chapter.
Controversy and Denial
Advocate Qazi Anwar denies direct contact with Bushra Bibi.
PTI Secretary General Salman Akram Raja did not comment.
Fee Audits Requested
PTI leader Sher Afzal Marwat calls for an audit of lawyers' fees.
He believes some lawyers were overpaid for their services.
Marwat highlighted his own unpaid contribution in 74 cases.
Growing Tensions
Senior PTI leaders are unhappy with Bushra Bibi's and Aleema Khan's interference in party matters.
Their behavior has caused discontent within the party.
What’s Next?
As Bushra Bibi takes a more significant role, PTI's legal and internal dynamics are changing. We'll see how these developments impact the party's future.
اردو میں پڑھیں
بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی میں بڑھتا ہوا کردار: قانونی ٹیم اور فیس آڈٹ
بشریٰ بی بی، جو کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی بیوی ہیں، اب پارٹی کے قانونی معاملات میں زیادہ کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ رہے کچھ اہم نکات:
قانونی ٹیم میں تبدیلی
بشریٰ بی بی نے پی ٹی آئی کے تمام وکیلوں کی فہرست مانگی ہے۔
ایڈووکیٹ قاضی انور اور مشعل یوسفزئی انہیں رپورٹ کریں گے۔
انور کو پی ٹی آئی کے تمام کیسز میں ان سے مشورہ لینا ہوگا۔
رابطے میں تبدیلی
پی ٹی آئی کے وکیل اب سیدھا عمران خان کو پیغام نہیں بھیج سکتے۔
یہ قدم کمیونیکیشن کو مرکزی اور منظم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
اندرونی مسائل کا حل
بشریٰ بی بی نے پی ٹی آئی کے وکیلوں کے درمیان کے تنازعات حل کیے۔
انہوں نے انصاف لائرز فورم کے پی چیپٹر میں تبدیلی کو حتمی شکل دی۔
تنازعہ اور انکار
ایڈووکیٹ قاضی انور نے بشریٰ بی بی سے براہ راست رابطے کی رپورٹس کو رد کر دیا۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
فیس آڈٹ کی درخواست
پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے وکیلوں کی فیس کا آڈٹ کرنے کی درخواست کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کچھ وکیلوں کو ان کی خدمات کے لیے زیادہ فیس دی گئی۔
مروت نے اپنی خدمات کو اجاگر کیا، کہ انہوں نے 74 کیسز میں عمران خان کو بغیر کسی ادائیگی کے نمائندگی کی۔
بڑھتا ہوا تنازعہ
سینئر پی ٹی آئی رہنما بشریٰ بی بی اور عمران خان کی بہن علیمہ خان کی مداخلت سے ناراض ہیں۔
ان کا رویہ اور پارٹی کے معاملات میں دخل اندازی سے پارٹی میں عدم اطمینان پیدا ہو رہا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
جیسے جیسے بشریٰ بی بی کا کردار پی ٹی آئی میں بڑھتا جا رہا ہے، پارٹی کے قانونی اور اندرونی ڈائنامکس تبدیل ہو رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں پارٹی کے مستقبل پر کیا اثر ڈالتی ہیں۔
0 Comments