PTI Protest: Over 10,700 Police on Standby in Punjab and Islamabad
ISLAMABAD: As the Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) gears up for its protest on November 24 in Islamabad, the Punjab and Islamabad police have intensified their preparations to maintain law and order. Authorities have vowed strict action against any attempts to disrupt peace.
According to a letter issued by the Additional Inspector General (AIG) of Operations, over 10,700 police personnel from across Punjab have been put on standby. This directive comes from Punjab’s police chief and includes 3,500 personnel from the Punjab Highway Patrol, 1,000 from the Special Protection Unit, and 1,200 from the Training Directorate.
This measure follows PTI’s call for nationwide demonstrations, with former Prime Minister Imran Khan urging supporters to march to Islamabad. Khan's lawyer, Faisal Chaudhry, stated that the protest would not only occur in Islamabad but also throughout Pakistan and globally where Imran's supporters are present.
The PTI has made four key demands: revoke the 26th Constitutional Amendment, restore democracy and the Constitution, return the public’s mandate, and release all innocent political prisoners.
The Punjab police deployment plan includes contributions from various regions. For instance, 1,300 personnel from Gujranwala are already deployed, while 500 law-enforcers from Sargodha will remain on standby. Other contributions include 200 personnel from Sheikhupura, 300 from Bahawalpur, and 300 from Muzaffargarh.
Meanwhile, the Islamabad administration has also begun preparations to counter the PTI's unauthorised gathering. Police have been supplied with tear gas, rubber bullets, and anti-riot gear. Leaves for all officers have been cancelled, and the Islamabad administration has requisitioned 8,000 additional personnel from Punjab, Sindh, and Kashmir. These reinforcements are expected to arrive in the federal capital by November 21.
It is important to note that Section 144, prohibiting gatherings of more than five people, has been imposed in Islamabad for two months. The Rangers and the Frontier Corps (FC) are already deployed in Islamabad, and the city may be sealed off with shipping containers by Friday, November 22.
In the meantime, the Capital Police have compiled lists for potential arrests of individuals likely to disrupt peace.
اردو میں پڑھیں
پی ٹی آئی کے احتجاج کے لئے پنجاب اور اسلام آباد میں 10,700 سے زائد پولیس اہلکار تیار
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 24 نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کی تیاریوں کے دوران، پنجاب اور اسلام آباد پولیس نے قانون و انتظام کو برقرار رکھنے کے لئے اپنی تیاریوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔ حکام نے امن کو خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پنجاب کے پولیس چیف کی ہدایت پر تمام متعلقہ افسران کو ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) آپریشنز کی جانب سے جاری کردہ خط کے مطابق، پنجاب بھر سے 10,700 سے زائد پولیس اہلکاروں کو تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس فورس میں پنجاب ہائی وے پیٹرول کے 3,500 اہلکار، اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کے 1,000 اہلکار اور ٹریننگ ڈائریکٹوریٹ کے 1,200 اہلکار شامل ہیں۔
یہ اقدام پی ٹی آئی کی جانب سے ملک بھر میں مظاہروں کی کال کے بعد اٹھایا گیا ہے، جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے حامیوں کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کی تلقین کی تھی۔ خان کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ احتجاج نہ صرف اسلام آباد میں بلکہ پاکستان بھر اور دنیا بھر میں جہاں جہاں عمران کے حامی موجود ہیں وہاں بھی ہوگا۔
پی ٹی آئی نے چار کلیدی مطالبات پیش کیے ہیں: 26ویں آئینی ترمیم کو منسوخ کرنا، جمہوریت اور آئین کی بحالی، عوامی مینڈیٹ کی واپسی، اور تمام بے گناہ سیاسی قیدیوں کی رہائی۔
پنجاب پولیس کے تعیناتی منصوبے میں مختلف علاقوں سے تعاون شامل ہے۔ مثلاً، گوجرانوالہ سے 1,300 اہلکار پہلے ہی تعینات ہیں، جبکہ سرگودھا سے 500 قانون نافذ کرنے والے اہلکار تیار رہیں گے۔ دیگر تعاون میں شیخوپورہ سے 200 اہلکار، بہاولپور سے 300، اور مظفرگڑھ سے 300 اہلکار شامل ہیں۔
دریں اثنا، اسلام آباد انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے غیر قانونی اجتماع سے نمٹنے کی تیاری بھی شروع کر دی ہے۔ پولیس کو آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں اور انسداد فسادات کا سامان فراہم کیا گیا ہے۔ تمام افسران کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ اسلام آباد انتظامیہ نے پنجاب، سندھ اور کشمیر سے 8,000 اضافی اہلکاروں کی طلب کی ہے۔ یہ کمک 21 نومبر تک وفاقی دارالحکومت میں پہنچنے کی توقع ہے۔
یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ اسلام آباد میں دو ماہ کے لئے پانچ سے زیادہ لوگوں کے اجتماعات پر پابندی (دفعہ 144) نافذ کر دی گئی ہے۔ رینجرز اور فرنٹیئر کور (ایف سی) پہلے ہی اسلام آباد میں تعینات ہیں، اور شہر کو جمعہ (22 نومبر) تک شپنگ کنٹینرز کے ساتھ سیل کیا جا سکتا ہے۔
اسی دوران، کیپیٹل پولیس نے ممکنہ طور پر امن خراب کرنے والے عناصر کی ممکنہ گرفتاریوں کے لئے فہرستیں بھی تیار کر لی ہیں۔
Image Credit: The Express Tribune
Source Credit: Geo News
0 Comments